حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے واقعۂ عاشورا کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کا اصل مقصد نہ حکومت کا حصول تھا اور نہ صرف شہادت، بلکہ اسلامی معاشرے کو اس کے صحیح راستے پر واپس لانا تھا، جو شدید انحراف کا شکار ہو چکا تھا۔
19 جون 1995ء کے خطبۂ جمعہ میں عاشورا کے اسباب و محرکات کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ امام حسینؑ کے قیام کا مقصد اسلامی حکومت کا قیام قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک آپؑ صرف شہادت کے لیے نکلے تھے۔ تاہم یہ دونوں تصورات دراصل قیام کے نتائج ہیں، اصل ہدف نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر مقصد صرف حکومت کا قیام ہوتا تو حالات ناموافق ہونے پر واپسی اختیار کی جا سکتی تھی، جبکہ اگر مقصد صرف شہادت ہوتا تو یہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہ ہوتا، کیونکہ اسلام انسان کو محض قتل ہونے کے لیے میدان میں اترنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ اسلامی تصورِ شہادت یہ ہے کہ انسان ایک مقدس اور واجب مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرے اور اس راہ میں جان بھی قربان کر دے۔
رہبرِ شہید انقلاب کے مطابق امام حسینؑ ایک عظیم دینی فریضہ انجام دینے کے لیے اٹھے تھے، ایسا فریضہ جو اس سے پہلے نہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نہ ہی دیگر ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں پیش آیا تھا۔ یہ فریضہ اس وقت ضروری ہو جاتا ہے جب اسلامی معاشرہ اس حد تک انحراف کا شکار ہو جائے کہ دین کی اصل تعلیمات مسخ ہونے لگیں اور اسلام کی حقیقی شناخت خطرے میں پڑ جائے۔
انہوں نے کہا کہ یزید کے دور میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ظلم، استبداد اور دینی اقدار سے انحراف کھلے عام ہونے لگا تھا۔ ایسے وقت میں امام حسینؑ نے امت کی اصلاح اور اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ کے لیے قیام کیا۔
آیت اللہ امام خامنہ ای کے مطابق عاشورا کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ جب دین اور معاشرے کی بنیادیں خطرے میں پڑ جائیں تو حق کی حفاظت کے لیے قیام کرنا ایک عظیم دینی ذمہ داری بن جاتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ حکومت ہو یا شہادت۔









آپ کا تبصرہ